نیپال کا سیلاب ’مہاپرلَے‘ تھا، عالمی ماہرِ امداد نے تباہی کی شدت بتا دی
نیپال میں ۲۶ اگست کو آنے والے تباہ کن اچانک سیلاب کو زیرِ زمین آفات سے نمٹنے کے ماہر آرنلڈ ڈکس نے ’’مہاپرلَے‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ جدید دور کی شدید ترین قدرتی آفات میں شامل ہے۔
آسٹریلوی ماہر ۴ ستمبر کو نیپال پہنچے تھے، جہاں وہ راسووا ضلع میں مختلف پن بجلی منصوبوں کی سرنگوں میں جاری امدادی کارروائیوں میں مدد کر رہے ہیں۔ ان علاقوں میں تقریباً ۹۰۰ بجلی گھر کارکنوں کی تلاش جاری ہے جو سیلاب کے بعد لاپتہ ہوگئے۔
آرنلڈ ڈکس نے کہا کہ انہوں نے کئی دہائیوں تک زیرِ زمین ہنگامی حالات اور قدرتی آفات میں کام کیا ہے، لیکن پانی، کیچڑ، بڑے پتھروں اور ملبے کے اتنے بڑے اور پرتشدد بہاؤ کو ایک ساتھ کئی مقامات پر دیکھنے کا تجربہ نہیں ہوا۔
ان کے مطابق اس سانحے کی شدت صرف جانی نقصان تک محدود نہیں بلکہ متعدد مقامات پر بیک وقت تباہی، سڑکوں اور مواصلاتی رابطوں کی تباہی اور امدادی کارروائیوں کی غیر معمولی پیچیدگی نے اسے انتہائی سنگین قدرتی آفت بنا دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سیلاب سے تقریباً ۱۴۱۰ افراد ہلاک جبکہ ۶۰۵۵ افراد لاپتہ ہیں۔ امدادی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔ نیپالی فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں نے اب تک ۱۳۷۵۶ افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچایا ہے۔
بھارتی فوج، قومی آفات سے نمٹنے والی فورس، چین اور جنوبی کوریا کی ٹیموں نے بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ سیلاب سے بھوٹے کوشی اور تریشولی دریاؤں کے کنارے پہاڑی علاقوں میں قائم کم از کم ۱۳ پن بجلی منصوبوں کو شدید نقصان پہنچا۔



