اسرائیلی وزیر دفاع کا غزہ کو مسمار کرنے کا انتباہ
اسرائیلی وزیر دفاع نے اپنے بیان میں ان اطلاعات یا ارادوں کی مزید وضاحت نہیں کی جن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے یہ سخت مؤقف اختیار کیا۔
غزہ شہر خالی کرانے کی دھمکی
کاٹز نے کہا کہ مختلف ارادوں اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر وہ حماس اور اس کے حامیوں کو متنبہ کر رہے ہیں کہ اگر ایک بھی اسرائیلی فوجی یا شہری اغوا ہوا تو غزہ شہر کے تقریباً دس لاکھ رہائشیوں کو جنوب کی جانب منتقل کردیا جائے گا۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے اپنے بیان میں ان اطلاعات یا ارادوں کی مزید وضاحت نہیں کی جن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے یہ انتباہ دیا۔
یہ بیان ۱۹۷۳ کی یوم کپور جنگ میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی یاد میں منعقدہ سالانہ تقریب کے دوران دیا گیا۔
غزہ میں کارروائی جاری رکھنے کا اعلان
کاٹز نے کہا کہ غزہ کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو رفح، بیت حانون اور غزہ کی پٹی کے تقریباً ستر فیصد علاقے کے ساتھ کیا گیا۔ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران ان علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ اور لبنان میں موجود مسلح تنظیموں سے نمٹنے کے لیے آبادی کا انخلا، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور علاقے پر قبضہ ان کا اختیار کردہ طریقہ ہے۔
پیلی لکیر سے پیچھے ہٹنے سے انکار
کاٹز کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی حکومت غزہ میں اپنی فوجی کارروائی اور موجودگی کو حماس کی سرگرمیوں سے جوڑتے ہوئے جاری رکھنے پر زور دے رہی ہے۔ تاہم، بیان میں کسی نئے فوجی اقدام کی مخصوص تاریخ یا تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔



