عادل آباد ریمس میں زہریلا دھواں جان لیوا ثابت، تین نوزائیدہ جاں بحق
عادل آباد کے ریمس میں نوزائیدہ نگہداشت یونٹ میں آتش زدگی کے واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد تین ہوگئی ہے۔ منگل کو مزید ایک بیس روزہ بچی نے نظام آباد کے سرکاری جنرل اسپتال میں زیر علاج رہنے کے دوران دم توڑ دیا۔ حکام کے مطابق واقعہ بجلی کے شارٹ سرکٹ کے بعد ایئر کنڈیشنروں میں دھماکوں سے پھیلے زہریلے دھویں کے باعث پیش آیا۔
ایک اور نوزائیدہ کی موت
حکام نے بتایا کہ بچی نے صبح نو بجے نظام آباد کے سرکاری جنرل اسپتال میں آخری سانس لی۔ وہ ان پانچ نوزائیدہ بچوں میں شامل تھی جن کی حالت زہریلے دھویں کے باعث شدید خراب ہوگئی تھی۔
پیر کی رات دیر گئے نوزائیدہ خصوصی نگہداشت یونٹ میں ایئر کنڈیشنروں میں بجلی کے شارٹ سرکٹ کے بعد دھماکے ہوئے۔ اس کے نتیجے میں دھواں پورے یونٹ میں پھیل گیا، جہاں نومولود بچوں کا علاج ہورہا تھا۔
تین نوزائیدہ جاں بحق
واقعے میں ایک پانچ روزہ بچہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا تھا۔ بتایا گیا کہ حیدرآباد کے سلیم احمد کا بچہ بے ہوش ہوا اور فوری طور پر دم توڑ گیا۔ ایک اور نوزائیدہ نے منگل کی صبح عادل آباد کے ایک نجی اسپتال میں علاج کے دوران جان کی بازی ہار دی۔ تازہ موت کے بعد ہلاکتیں تین ہوگئی ہیں۔
جاں بحق بچوں کی شناخت ابھی تک مکمل طور پر نہیں ہوسکی۔ خصوصی نگہداشت یونٹ میں تقریباً تیس نوزائیدہ بچوں کا علاج جاری تھا۔ باقی بچوں کی حالت مستحکم اور طبی نگرانی میں بتائی گئی ہے۔
تین بچوں کی حالت تشویش ناک
عادل آباد کے مختلف نجی اسپتالوں میں زیر علاج تین نوزائیدہ بچوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ دھواں اور زہریلی گیسیں یونٹ میں پھیل گئیں، جس کے باعث بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ریمس انتظامیہ نے واقعے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر کسی افسر یا متعلقہ عملے کی غفلت ثابت ہوئی تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔



