بین الاقوامیعرب دنیا

ایران کے آسمان پر پراسرار شے، امریکی ’بلیک مانٹا‘ طیارے کی قیاس آرائیاں تیز

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران تہران کے آسمان پر روشن اور مختلف رنگوں والی ایک پراسرار شے دیکھے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر نئی قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں۔ بعض افراد اسے ڈرون، جبکہ کچھ نے ممکنہ طور پر ایک نامعلوم فضائی شے قرار دیا۔ اس واقعے نے مبینہ امریکی خفیہ طیارے بلیک مانٹا سے متعلق پرانی کہانیوں کو بھی دوبارہ موضوع بحث بنا دیا ہے۔

تہران اور زاہدان میں پراسرار مناظر

یہ پراسرار شے ۲۰ ستمبر کو تہران میں آزادگان ایکسپریس وے کے قریب آسمان پر حرکت کرتی دیکھی گئی۔ سامنے آنے والی تصاویر میں ایک بڑی، ہلال نما شے کو مختلف رنگوں کی روشنیوں کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔ اگلے روز زاہدان کے آسمان پر بھی روشنیوں کا ایک عجیب مجموعہ حرکت کرتا دکھائی دیا۔

کچھ لوگوں نے پہلے مشاہدے کو روشن پتنگ قرار دیا، جبکہ دیگر نے اسے نامعلوم ڈرون یا کسی غیر معمولی فضائی شے سے جوڑا۔ ایرانی حکام یا فوج کی جانب سے ان مشاہدات کی کوئی حتمی وضاحت سامنے نہیں آئی۔

’بلیک مانٹا‘ کا دعویٰ کیا ہے؟

قیاس آرائیوں میں مبینہ ٹی آر-۳ بی بلیک مانٹا کا نام بھی سامنے آیا ہے۔ تاہم اس طیارے کے وجود کی تصدیق کے لیے کوئی قابل اعتماد عوامی ثبوت موجود نہیں۔ اس سے متعلق دعوے کئی برسوں سے خفیہ طیاروں اور نامعلوم فضائی مشاہدات کی کہانیوں کا حصہ رہے ہیں۔

بعض نظریات کے مطابق یہ ایک سیاہ، تکون نما اور انتہائی خاموش طیارہ ہوسکتا ہے، جسے نگرانی اور خفیہ معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے متعلق بعض دعووں میں جدید دھکا دینے والے نظام اور پلازما ٹیکنالوجی کا بھی ذکر کیا جاتا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔

ماضی کے واقعات سے تعلق

۲۰۲۱ میں ایرانی ذرائع ابلاغ نے بحیرہ روم میں امریکی طیارہ بردار جہاز پر ایک تکون نما شے کی تصویر شائع کی تھی اور اسے مبینہ بلیک مانٹا سے جوڑا گیا تھا۔ اس سے قبل امریکا کے ایف-۱۱۷ نائٹ ہاک جیسے خفیہ طیاروں کو بھی عوامی طور پر تسلیم کیے جانے سے کئی سال پہلے دیکھا جاچکا تھا۔

تہران میں ۱۹۷۶ میں بھی ایک پراسرار فضائی شے دیکھنے کی اطلاع سامنے آئی تھی، جس کی تحقیقات کے لیے ایرانی ایف-۴ طیارے بھیجے گئے تھے۔ تاہم اس شے کی شناخت کبھی حتمی طور پر نہیں ہوسکی۔

حالیہ مشاہدات کے بارے میں فی الحال کوئی ثبوت موجود نہیں کہ وہ بلیک مانٹا تھا۔ مبینہ طیارے کا وجود بھی غیر مصدقہ ہے، اس لیے یہ معاملہ فی الوقت ایک پراسرار فضائی واقعہ ہی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button