بین الاقوامیعلاقائی خبریںقومی

شہباز شریف کے خطاب پر بھارت کا جواب، دہشت گردی پر وارننگ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے خطاب کے ایک روز بعد بھارت نے اپنے جواب میں پاکستان پر دہشت گردی سے متعلق الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پار دہشت گردی جاری رہنے کے نتائج ہوں گے۔ بھارتی سفارت کار پیٹل گہلوت نے بھارت کے جواب کا حق استعمال کرتے ہوئے شہباز شریف کے کشمیر سے متعلق بیان اور دیگر دعوؤں کو مسترد کیا۔

اسامہ بن لادن کا حوالہ

پیٹل گہلوت نے شہباز شریف کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسامہ بن لادن کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کا منصوبہ بنانے والا اسامہ بن لادن پاکستان میں فوجی تربیتی مرکز کے قریب رہ رہا تھا۔

بھارتی نمائندے نے پاکستان پر دہشت گردی کے معاملے میں دوہرا معیار اختیار کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرے گا اور پاکستان کی جانب سے مسلسل سرحد پار دہشت گردی کے نتائج ہوں گے۔

کشمیر کے معاملے پر دونوں ممالک کے مؤقف

شہباز شریف نے اپنے تقریباً ۲۳ منٹ کے خطاب میں کشمیر کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ جنوبی ایشیا کو دوبارہ ۲۰۲۵ جیسی کشیدگی کی جانب جانے سے روکنے کے لیے کشمیر کے مسئلے کا منصفانہ حل ضروری ہے۔

اس کے جواب میں بھارتی سفارت کار نے جموں و کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ اور ناقابل تقسیم حصہ قرار دیتے ہوئے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے پاکستان میں جمہوری اقدار اور انسانی حقوق سے متعلق دعوؤں پر بھی تنقید کی۔

سندھ طاس معاہدے کا معاملہ

پاکستانی وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں سندھ طاس معاہدے کا بھی ذکر کیا۔ بھارت نے اپریل ۲۰۲۵ میں پہلگام حملے کے بعد اس معاہدے کو عارضی طور پر معطل رکھنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کی حمایت ختم ہونے تک معاہدہ زیر التوا رہے گا۔

شہباز شریف نے جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارت کی جانب سے پانی کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی اقدام تصور کرنے کا انتباہ بھی دیا۔

۲۰۲۵ کی کشیدگی پر ٹرمپ کا ذکر

شہباز شریف نے اپنے خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی ذکر کیا اور ۲۰۲۵ میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی فوجی کشیدگی کے دوران ان کی مداخلت کو بروقت قرار دیا۔ بھارت نے ماضی میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت کے دعوے کو مسترد کیا ہے۔

بھارت نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے کہا کہ پاکستان کے بیانات کے بجائے اس کی پالیسیوں اور اقدامات کا جائزہ لیا جائے۔ دونوں ممالک کے درمیان کشمیر، دہشت گردی اور پانی کے معاملات پر اختلافات جنرل اسمبلی کے موجودہ اجلاس میں بھی نمایاں رہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button