بین الاقوامیعرب دنیا

گرفتاری وارنٹ کے باوجود نیتن یاہو کا تین یورپی ممالک کی فضائی حدود سے گزر

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو جمعرات، ۲۴ ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک روانہ ہوئے اور اس دوران ان کا طیارہ تین ایسے یورپی ممالک کی فضائی حدود سے گزرا جو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے رکن ہیں۔

فرانس، اٹلی اور یونان کی فضائی حدود

نیتن یاہو کے طیارے نے امریکہ جانے سے پہلے یونان، اٹلی اور فرانس کی فضائی حدود عبور کیں۔ تینوں ممالک روم معاہدے کے فریق ہیں، جس کے تحت بین الاقوامی فوجداری عدالت قائم کی گئی تھی۔

نیتن یاہو نیویارک میں آٹھ گھنٹے سے بھی کم وقت رہے۔ جنرل اسمبلی سے خطاب کے بعد انہوں نے ارجنٹینا، پیراگوئے، بولیویا اور پاناما کے صدور سے ملاقاتیں کیں اور پھر خصوصی طیارے کے ذریعے اسرائیل روانہ ہوگئے۔

گرفتاری کیوں نہیں ہوئی؟

نیتن یاہو کو فرانس، اٹلی یا یونان میں گرفتار نہیں کیا گیا کیونکہ ان کا طیارہ ان ممالک میں اترا نہیں بلکہ صرف فضائی حدود سے گزرا۔ فرانس نے طیارے کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دینے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے مطابق تھا۔

فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان پاسکل کونفاورو کے مطابق روم معاہدہ کسی رکن ملک پر ایسی پابندی عائد نہیں کرتا کہ وہ کسی ایسے مسافر کو لے جانے والے سرکاری طیارے کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے سے روکے جس کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری ہو۔

فرانسیسی مؤقف کے مطابق روم معاہدہ رکن ممالک سے عدالت کے ساتھ تعاون اور بعض حالات میں گرفتاری و حوالگی کا تقاضا کرتا ہے، لیکن کسی ریاستی طیارے کو فضائی حدود سے گزرنے سے روکنے کی مخصوص شرط موجود نہیں۔

نیتن یاہو کے خلاف وارنٹ کیوں؟

بین الاقوامی فوجداری عدالت نے ۲۱ نومبر ۲۰۲۴ کو نیتن یاہو اور اس وقت کے وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ عدالت کی جانب سے ان پر غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی کے دوران مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم سے متعلق الزامات عائد کیے گئے۔

الزامات میں جنگی طریقے کے طور پر بھوک کو استعمال کرنا، قتل، ظلم و ستم اور دیگر غیر انسانی اقدامات شامل ہیں۔ نیتن یاہو ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں، جبکہ اسرائیل عدالت کے دائرہ اختیار پر اعتراض کرتا اور غزہ میں جنگی جرائم کے ارتکاب کی تردید کرتا ہے۔

اسرائیل روم معاہدے کا رکن نہیں، تاہم عدالت نے فلسطین سے متعلق معاملے میں اپنے دائرہ اختیار کو تسلیم کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button