بین الاقوامیعرب دنیا

اقوام متحدہ میں مستقل نشست، روس نے بھارت کی حمایت کردی

روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشست کے لیے بھارت کی امیدواری کی حمایت کردی ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کے تحت مغربی ممالک، خصوصاً جرمنی اور جاپان کو اضافی مستقل نشستیں نہیں دی جانی چاہئیں۔

بھارت اور برازیل کی حمایت

سرگئی لاوروف نے کہا کہ روس سلامتی کونسل میں ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کی نمائندگی بڑھانے کے حق میں ہے۔ انہوں نے واضح طور پر بھارت اور برازیل کی مستقل نشست کے لیے امیدواری کی حمایت کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی اصلاحات میں افریقی براعظم کے مفادات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ لاوروف کے مطابق روس کا مؤقف یہ ہے کہ سلامتی کونسل میں نئی مستقل نشستیں مغربی ممالک کو دینے کے بجائے دنیا کے دیگر خطوں کی نمائندگی میں اضافہ کیا جائے۔

جرمنی اور جاپان پر روسی اعتراض

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کے عمل میں جرمنی اور جاپان کو اضافی نشستیں دینا روس کے اصولی مؤقف کے مطابق نہیں ہوگا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے حوالے سے عسکریت پسندی اور ماضی کی پالیسیوں کی جانب واپسی سے متعلق سخت الفاظ استعمال کیے۔

لاوروف نے کہا کہ روس اپنی خارجہ پالیسی کے ذریعے اپنے اتحادیوں اور تزویراتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر عالمی صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے برکس، شنگھائی تعاون تنظیم اور یوریشین اقتصادی یونین کا بھی ذکر کیا۔

عالمی اطلاعاتی سلامتی پر زور

سرگئی لاوروف نے عالمی اطلاعاتی سلامتی کے مسئلے کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق اس معاملے پر ہونے والی عالمی بحث میں اقوام متحدہ کو مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے، نہ کہ محدود دائرہ کار رکھنے والے دیگر فورمز کو۔

انہوں نے کہا کہ روس ایسی مشترکہ ترجیحات، عملی تجاویز اور منصوبوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کررہا ہے جن پر مختلف ممالک اتفاق کرسکیں۔

سلامتی کونسل کی مستقل نشست کے لیے بھارت کی روسی حمایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اقوام متحدہ کے ادارے میں اصلاحات اور مختلف خطوں کی نمائندگی بڑھانے کا معاملہ عالمی سطح پر زیر بحث ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button