علاقائی خبریںقومی

سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے کا بل لوک سبھا سے منظور، اہم فیصلہ نافذ

لوک سبھا نے سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے سے متعلق اہم ترمیمی بل منظور کر لیا۔ اس فیصلے کے تحت چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد چونتیس سے بڑھا کر اڑتیس کر دی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے مقدمات کی جلد سماعت اور عدالتی نظام کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔

یہ بل مرکزی حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا تھا، جبکہ مرکزی وزیر ارجن رام میگھوال نے ایوان میں اس پر بحث کا آغاز کیا۔ تاہم کارروائی کے دوران اپوزیشن ارکان نے مسلسل نعرے بازی کی، جس کے باعث ایوان میں ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔

اسپیکر لوک سبھا نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ اس اہم قانون سازی پر بحث میں حصہ لے، مگر احتجاج جاری رہنے کے باعث بل پر تفصیلی گفتگو نہ ہو سکی۔ بعد ازاں ایوان نے بل کو منظوری دے دی، جس کے بعد کارروائی اگلے دن تک ملتوی کر دی گئی۔

واضح رہے کہ مرکزی کابینہ نے رواں سال مئی میں سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے کی منظوری دی تھی۔ اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے صدر دروپدی مرمو نے اس سے قبل ایک آرڈیننس بھی جاری کیا تھا، جو رواں سال کا پہلا آرڈیننس قرار دیا گیا۔

یہ بل موجودہ پارلیمانی مون سون اجلاس کے دوران منظور کیا گیا ہے۔ آئینی ماہرین کے مطابق ملک میں بڑھتے ہوئے مقدمات اور عدالتی بوجھ کے پیش نظر ججوں کی تعداد میں اضافہ ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے، جس سے زیر التوا مقدمات کے جلد نمٹنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ چھبیس جنوری انیس سو پچاس کو آئین کے نفاذ کے وقت سپریم کورٹ میں صرف آٹھ جج تھے۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں ججوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ کیا گیا اور اب ایک بار پھر اس میں توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ عوام کو بروقت انصاف کی فراہمی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button