علاقائی خبریںقومی

راہل گاندھی کے الزام پر لوک سبھا میں ہنگامہ، وزیر داخلہ کے خلاف بیان پر معافی اور ثبوت کا مطالبہ

لوک سبھا میں پرچہ افشا مخالف ترمیمی بل پر بحث کے دوران اس وقت شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جب راہل گاندھی نے الزام عائد کیا کہ وزیر داخلہ امت شاہ نے طلبہ کے خلاف طاقت کے استعمال کی منظوری دی تھی۔ ان کے بیان پر حکمراں اتحاد کے ارکان نے سخت اعتراض کرتے ہوئے معافی اور ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔

ایوان میں خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ بیس جولائی کو طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کی ذمہ داری وزیر داخلہ پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کے خلاف طاقت کے استعمال کی اجازت صرف اعلیٰ سطح پر دی جا سکتی ہے۔

اس بیان کے فوراً بعد ایوان میں شور شرابہ شروع ہوگیا۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن ریجیجو نے راہل گاندھی کے بیان کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اتنا سنگین الزام بغیر ثبوت کے نہیں لگایا جا سکتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر الزام درست ہے تو شواہد پیش کیے جائیں، ورنہ بیان واپس لے کر معافی مانگی جائے۔

ہنگامہ بڑھنے پر لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے بھی مداخلت کی اور واضح کیا کہ ایوان میں کسی بھی رکن کے خلاف بغیر ثبوت سنگین الزامات عائد کرنا پارلیمانی روایت کے خلاف ہے۔ انہوں نے اپوزیشن رہنما کو قواعد کا خیال رکھنے کی تلقین کی۔

اپنی تقریر کے دوران راہل گاندھی نے طلبہ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک حقیقی طالب علم ہمیشہ نئی معلومات سیکھنے کے لیے تیار رہتا ہے اور عاجزی اس کی سب سے بڑی خوبی ہوتی ہے۔ انہوں نے ایسے افراد پر بھی تنقید کی جو اپنے آپ کو ہر معاملے میں درست سمجھتے ہیں۔ اس دوران ان کی جانب سے استعمال کیے گئے ایک لفظ پر بھی ایوان میں اعتراض کیا گیا اور اسے غیر پارلیمانی قرار دیا گیا۔

یہ معاملہ اب سیاسی حلقوں میں نئی بحث کا سبب بن گیا ہے، جہاں ایک طرف حکومت راہل گاندھی سے ثبوت اور معافی کا مطالبہ کر رہی ہے، تو دوسری جانب اپوزیشن اپنے مؤقف پر قائم ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button