تلنگانہحیدرآبادعلاقائی خبریںقومی

پرچہ لیک پر راہول گاندھی کا ردعمل، وزیر اعظم سے جوابدہی کا مطالبہ

کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائدِ حزب اختلاف راہول گاندھی نے نیٹ پرچہ لیک اور طلبہ پر مبینہ پولیس کارروائی کو لے کر مرکزی حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دس برسوں میں ایک سو باون پرچہ لیک کے واقعات پیش آئے، لیکن کسی ایک معاملے میں بھی ذمہ داروں کو سزا نہیں ملی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ دہلی پولیس نے پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ پر لاٹھی چارج، آنسو گیس اور طاقت کا استعمال کیا، جو انتہائی افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ صرف شفاف امتحانی نظام اور اپنے مستقبل کے تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ ایسا سلوک کسی بھی صورت درست نہیں۔

انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ طلبہ سے فوری معافی مانگیں اور ملک کے تعلیمی نظام کی خراب صورتحال کی ذمہ داری قبول کریں۔

راہول گاندھی نے کہا کہ وہ، پریانکا گاندھی، اکھلیش یادو اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کیا، جہاں انہیں پولیس نے حراست میں لے لیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں حراست میں لیتے وقت بعض پولیس اہلکاروں نے بھی موجودہ حکومت سے ناراضی کا اظہار کیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کا تعلیمی نظام نہ صرف بے ضابطگیوں کا شکار ہے بلکہ عام خاندانوں کے لیے انتہائی مہنگا بھی ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق پرچہ لیک کے باعث لاکھوں طلبہ کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے، جبکہ کئی طلبہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے اور بعض نے اپنی جان بھی گنوا دی۔

راہول گاندھی نے مزید کہا کہ ہر سال خاندان اپنے بچوں کے امتحانات پر بھاری رقم خرچ کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود پرچہ لیک جیسے واقعات ان کی محنت اور امیدوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر شفاف امتحانی نظام نافذ کرے، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور طلبہ کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button