علاقائی خبریںقومی

پرچہ لیک معاملہ، وزیر تعلیم کے استعفے تک احتجاج جاری رہے گا عوامی تنظیم

نیٹ پرچہ لیک معاملے پر جاری احتجاج میں شدت آ گئی ہے۔ طلبہ کی حمایت کرنے والی ایک عوامی تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ جب تک مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیتے یا انہیں ہٹایا نہیں جاتا، اس وقت تک جنتر منتر پر احتجاج جاری رکھا جائے گا۔

تنظیم کے ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے پرچہ لیک کے ملزمان کو جلد سزا دلانے کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام کا اعلان خوش آئند ہے، تاہم یہ اقدام مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ ان کے مطابق اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ پرچہ لیک کے واقعات کی بنیادی وجوہات ختم کی جائیں اور پورے تعلیمی نظام میں شفافیت لائی جائے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں بار بار ہونے والے پرچہ لیک کے پیچھے ناقص انتظامات اور بدعنوانی ذمہ دار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف سزا کا اعلان کافی نہیں، بلکہ ایسے اقدامات ضروری ہیں جن سے مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔

ترجمان نے دعویٰ کیا کہ احتجاج میں شریک افراد کی ناراضی اب براہِ راست وزیر اعظم کی طرف بھی بڑھ رہی ہے، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ حکومت نے طلبہ کے مطالبات پر بروقت توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ عوام اب اس معاملے میں اعلیٰ سطح پر جوابدہی چاہتے ہیں۔

ادھر پارلیمنٹ کے باہر بھی حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کے درمیان نیٹ پرچہ لیک کے معاملے پر نعرے بازی اور احتجاج دیکھنے میں آیا، جس سے ایوان کی کارروائی متاثر ہونے کے امکانات بڑھ گئے۔

دوسری جانب ممبئی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو زیرِ گردش ہے، جس میں ایک پولیس اہلکار مبینہ طور پر زیرِ حراست طالب علم کو جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کی دھمکی دیتا دکھائی دے رہا ہے۔ ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد پولیس کے رویے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، تاہم اس دعوے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔

ادھر سپریم کورٹ نے بھی عدالت آنے والے وکلا اور سائلین کو پیش آنے والی مشکلات کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری مسئلہ حل کرنے کی ہدایت دی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button