امریکی حملوں کے بعد ایران کا بھرپور جواب، بحرین، کویت اور اردن کو نشانہ بنایا
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ مسلسل گیارہویں رات امریکی فضائی حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بحرین، کویت اور اردن میں موجود امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے پورے مشرق وسطیٰ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ایرانی فوج کے مطابق اردن میں واقع ازرق فضائی اڈے اور بحرین کے شیخ عیسیٰ فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا، جہاں امریکی فوجی تنصیبات موجود ہیں۔ دوسری جانب اردن کی مسلح افواج نے کہا کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے چار ایرانی میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے۔ دو میزائل غیر آباد علاقوں میں گرے، تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ادھر کویت میں بھی ایرانی حملوں کے بعد ایک پانی صاف کرنے کے پلانٹ اور کئی بجلی گھروں میں آگ لگنے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے اہم تنصیبات کی سلامتی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ایرانی حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے کویت میں موجود امریکی فوجی سازوسامان پر ڈرون حملے کیے ہیں۔ تاہم اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
اسی دوران ایران کے مختلف علاقوں میں بھی زور دار دھماکوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جارحیت کا جواب دینے کی کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ اگر ایرانی جوہری تنصیبات کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا تو خطے میں موجود امریکی اور اتحادی مفادات بھی ہدف بن سکتے ہیں۔
بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی خلیجی خطے، توانائی کی فراہمی، فضائی سفر اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خدشات پیدا کر رہی ہے۔



