بین الاقوامیعرب دنیا

امریکہ کے ایران پر مسلسل نویں رات بھی فضائی حملے

امریکہ نے ایران کے خلاف مسلسل نویں رات بھی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی فوج کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی ان فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے جنہیں تجارتی بحری جہازوں اور شہری جہاز رانوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔

امریکی مرکزی کمان نے اپنے بیان میں کہا کہ تازہ حملے اتوار کی شام شروع کیے گئے اور ان میں ایران کے متعدد اہم فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق کارروائی کے دوران فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، میزائل اور ڈرون ذخائر سمیت کئی عسکری تنصیبات کو ہدف بنایا گیا۔

امریکی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حملوں میں ان فورسز کو نشانہ بنایا گیا جن پر حالیہ دنوں میں امریکی فوجیوں پر حملوں کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہزاروں فوجی مکمل طور پر چوکس ہیں اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

دوسری جانب ایران نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی امریکی حملوں، خصوصاً زیرِ تعمیر دارخوین جوہری بجلی گھر کو نشانہ بنانے کے معاملے پر واضح مؤقف اختیار کرے اور اس کی مذمت کرے۔

ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جاری یہ کشیدگی صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے خطے، عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ سفارتی کوششوں کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button