وشال دادلانی نے وزیر اعظم مودی کی ویڈیو پر طنز کیا، طلبہ کے اصل مسائل پر توجہ دینے کی اپیل
وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے طلبہ احتجاج سے متعلق جاری کی گئی ویڈیو پر گلوکار اور موسیقار وشال دادلانی نے ردعمل دیتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ وزیر اعظم کی ویڈیو کے بعد سوشل میڈیا پر بحث تیز ہوگئی، جہاں مختلف لوگوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
وزیر اعظم مودی نے دہلی کے جنتر منتر احتجاج کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ احتجاج کے دوران مبینہ طور پر نازیبا زبان استعمال کرنے والے نوجوانوں کو وہ معاف کرتے ہیں۔ انہوں نے انہیں گمراہ بچے قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں نفرت نہیں بلکہ صحیح راستہ دکھانے کی ضرورت ہے۔
وزیر اعظم نے ایک وائرل ویڈیو کا حوالہ بھی دیا جس میں نوئیڈا کی ایک خاتون پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے احتجاج کے دوران نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ مودی نے کہا کہ بیٹیوں کی جانب سے ایسی زبان کا استعمال ثقافتی طور پر تکلیف دہ ہے۔
دادلانی نے کہا کہ اصل توجہ امتحانی بے ضابطگیوں، پرچے کے افشا اور طلبہ کے مستقبل پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے غصے کی وجہ ان کے مسائل ہیں، لیکن ان مسائل پر بات نہیں ہو رہی۔
گلوکار نے خواتین مظاہرین کے بارے میں ہونے والی تنقید پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ بیٹیوں اور بیٹوں کے لیے الگ معیار رکھنا غلط ہے۔ انہوں نے اسے تعصب قرار دیا۔
وزیر اعظم سے مخاطب ہوتے ہوئے وشال دادلانی نے کہا کہ تشہیر کے بجائے حکمرانی اور نوجوانوں کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تعلیمی نظام میں حقیقی تبدیلی لائی جائے تو نوجوان خود حکومت کی حمایت کریں گے۔



