بین الاقوامیعرب دنیا

غزہ معاہدے پر ٹرمپ کا بڑا دعویٰ، کیا حماس واقعی ہتھیار ڈال دے گی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس اور غزہ میں موجود دیگر مسلح گروہوں نے غیر مسلح ہونے کے عمل پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو غزہ میں پائیدار امن اور استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا، تاہم اس اعلان کے بعد کئی اہم سوالات بھی سامنے آ گئے ہیں۔

ٹرمپ کے مطابق اگر حماس ہتھیار چھوڑ دیتی ہے تو غزہ کا انتظام ایک فلسطینی کمیٹی کے حوالے کیا جائے گا، جبکہ اسرائیلی فوج مرحلہ وار غزہ سے انخلا کرے گی۔ یہ تمام اقدامات مبینہ امن منصوبے کے تحت کیے جانے کی بات کہی جا رہی ہے۔

دوسری جانب حماس کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ اس عمل پر آمادہ ہیں، لیکن مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن نے واضح کیا ہے کہ ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ صرف اسی صورت ممکن ہوگا جب اسرائیل مکمل طور پر غزہ سے انخلا کرے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حماس واقعی غیر مسلح ہونے پر رضامند ہوتی ہے تو یہ اس کی تقریباً چار دہائیوں پر محیط جدوجہد میں ایک غیر معمولی تبدیلی ہوگی۔ حماس کی بنیاد انیس سو ستاسی میں اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمت اور فلسطینی حقوق کے تحفظ کے مقصد سے رکھی گئی تھی۔

حماس کے منشور میں بھی مسلح مزاحمت کو فلسطینی عوام کے حقوق کے دفاع کے لیے بنیادی حکمت عملی قرار دیا گیا ہے، اسی لیے فلسطینی عوام کا ایک بڑا طبقہ اسے اپنی جدوجہد کی علامت سمجھتا ہے۔

حالیہ عوامی جائزوں کے مطابق فلسطینیوں کی بڑی تعداد اب بھی حماس کو غیر مسلح کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک غزہ سے مکمل انخلا اور مستقل امن کی واضح ضمانت نہیں ملتی، اس معاہدے پر عمل درآمد کے امکانات غیر یقینی رہیں گے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button