امریکہ، ایران جنگ سے سعودی عرب کیوں خوفزدہ ؟ خطے میں بڑھتی کشیدگی نے نئی تشویش پیدا کر دی
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر پورے خلیجی خطے کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز کے معاملے پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اہم تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ اسی صورتحال کے پیش نظر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر سے رابطہ کر کے جنگ روکنے کی اپیل کی ہے۔
سعودی عرب اس وقت اپنے ویژن دو ہزار تیس منصوبے پر تیزی سے عمل کر رہا ہے، جس کا مقصد معیشت کو صرف تیل پر انحصار سے نکال کر سرمایہ کاری، سیاحت، صنعت، اختراع اور تجارتی سرگرمیوں کا عالمی مرکز بنانا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ چھڑ گئی تو اس کے نتیجے میں خطے کی معاشی سرگرمیاں، تیل کی ترسیل اور سرمایہ کاری شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے سعودی منصوبوں کو بڑا دھچکا پہنچ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یمن میں سرگرم حوثی گروہ بھی ایران کی حمایت حاصل ہونے کے باعث کسی بھی ممکنہ جنگ میں کردار ادا کر سکتا ہے، جس سے سعودی عرب کو مزید سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔
اسی دوران قطر، عمان، پاکستان اور ترکیہ سمیت کئی ممالک سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھا جا سکے اور کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ مبصرین کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو پورا خطہ ایک بڑے بحران کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔



