ایران پر حملہ مؤخر، ٹرمپ نے مذاکرات کا اعلان کر دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ نئے مذاکرات تین اگست سے شروع ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر نے امریکہ سے درخواست کی تھی کہ ایران پر مجوزہ حملہ روک دیا جائے کیونکہ معاہدے کے امکانات روشن ہیں۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز اور ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق اہم پیش رفت ہو رہی ہے اور امید ہے کہ جلد ایک جامع معاہدہ طے پا جائے گا۔ ان کے مطابق ایران نے بھی امریکہ سے فوجی کارروائی مؤخر کرنے کی درخواست کی، جس کے بعد دونوں ممالک نے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا۔
اسی دوران برطانیہ کی بحری تجارتی نگرانی کے ادارے نے بتایا کہ عمان کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر کے نزدیک زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی۔ تاہم جہاز اور اس کے عملے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور علاقے سے گزرنے والے بحری جہازوں کو محتاط رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی ٹیلی فون پر ٹرمپ سے رابطہ کر کے ایران کے خلاف مجوزہ کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا اور مزید وضاحت طلب کی۔
دوسری جانب پاکستان، قطر، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور دیگر ممالک نے بھی امریکہ اور ایران سے کشیدگی کم کرنے اور تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی اپیل کی ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر مجوزہ معاہدہ جلد حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو نہ صرف خطے میں امن کی راہ ہموار ہوگی بلکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بھی معمول پر آ جائے گی، جس سے عالمی منڈیوں اور توانائی کی فراہمی پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔



