بین الاقوامیسائنسعرب دنیا

مصنوعی ذہانت کا حیران کن کمال! سائنس دانوں نے بنائے 16 نئے وائرس، خطرناک جراثیم کے خلاف بڑی امید

امریکہ کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور آرک انسٹی ٹیوٹ کے سائنس دانوں نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے نئے وائرس تیار کرنے میں اہم کامیابی حاصل کرلی ہے۔ تحقیق کے دوران تیار کیے گئے سیکڑوں نمونوں میں سے 16 وائرس فعال ثابت ہوئے اور انہوں نے بیکٹیریا کو تباہ کرنے کی صلاحیت دکھائی۔ یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق یہ وائرس صرف بیکٹیریا کو نشانہ بناتے ہیں اور انسانوں، جانوروں یا پودوں کو متاثر نہیں کرتے۔ تحقیق نے اس امکان کو تقویت دی ہے کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں ادویات کے خلاف مزاحمت رکھنے والے خطرناک جراثیم سے نمٹنے کے لیے ایک نیا ذریعہ فراہم کرسکتی ہے۔

محققین نے مصنوعی ذہانت کے ایسے نظام استعمال کیے جو جینیاتی معلومات کا تجزیہ کرکے نئے جینیاتی سلسلے تیار کرسکتے ہیں۔ قدرتی جینز کی بڑی مقدار سے تربیت حاصل کرنے کے بعد نظام نے بیکٹیریا کو متاثر کرنے والے وائرسوں کے نئے نمونے تجویز کیے۔

تحقیق کے دوران تقریباً 300 ڈیزائن منتخب کرکے تجربہ گاہ میں تیار کیے گئے اور انہیں بیکٹیریا پر آزمایا گیا۔ ان میں سے 16 وائرس فعال نکلے۔ بعض نئے وائرس اپنے قدرتی نمونوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھے، جبکہ کچھ نے ایسے ای کولی بیکٹیریا کو بھی تباہ کردیا جو قدرتی وائرس کے خلاف مزاحمت پیدا کرچکے تھے۔

تاہم اس کامیابی کے ساتھ حیاتیاتی تحفظ کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے نئے وائرس کے جینیاتی سلسلے تیار کرنے کی صلاحیت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، جبکہ اس شعبے کے لیے واضح عالمی ضوابط ابھی محدود ہیں۔

محققین نے احتیاط کے طور پر انسانوں، جانوروں، پودوں اور پھپھوندی کو متاثر کرنے والے وائرسوں کی معلومات کو تربیتی مواد میں شامل نہیں کیا۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں سائنسی ترقی اور سخت حفاظتی نگرانی دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہوگا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button