مغربی ایشیا میں بڑی پیش رفت، ایران کو مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کی دعوت
مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان ایک اہم اور غیر متوقع پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے مکہ اجتماعی دفاعی معاہدے میں ایران کو بھی شامل ہونے کی دعوت دیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
علاقائی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی رہنما مہدی رحیمی نے کہا ہے کہ تہران کو موصول ہونے والی دعوت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو ایران کے لیے ایک کامیابی قرار دیا۔ تاہم ایرانی وزارت خارجہ نے اب تک ایران کو دعوت دیے جانے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔
مکہ معاہدہ کیا ہے؟
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان مکہ اجتماعی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت رکن ممالک کے درمیان مشترکہ دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کا عزم کیا گیا ہے۔
معاہدے کی ایک اہم شق کے مطابق کسی ایک رکن ملک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔ اسی وجہ سے اس معاہدے کو بعض حلقوں میں دفاعی اتحاد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ایران کی شمولیت پر سوالات
فروری میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد مغربی ایشیا میں سیاسی اور دفاعی صورتحال تیزی سے تبدیل ہوئی ہے۔ خطے کے کئی ممالک اپنی سلامتی کے لیے نئے علاقائی انتظامات پر غور کر رہے ہیں۔
تاہم ایران کی ممکنہ شمولیت اور دعوت کی اصل نوعیت کے بارے میں سرکاری وضاحت سامنے آنا ابھی باقی ہے، جس کے بعد ہی اس پیش رفت کی مکمل تصویر واضح ہوسکے گی۔



