بین الاقوامیعرب دنیا

مکہ معاہدے میں مصر کی شمولیت کا اعلان، خطے میں نیا دفاعی اتحاد مضبوط ہونے لگا

مصر بھی پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے مکہ اجتماعی دفاعی معاہدے میں شامل ہوگا۔ ترکی کے وزیر خارجہ نے اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصر ان کا اہم شراکت دار ہے اور مختلف معاملات میں تعاون کرتا ہے، اس لیے وہ بھی اس دفاعی اتحاد کا حصہ بنے گا۔

ترک وزیر خارجہ کے مطابق یہ معاہدہ کسی ایک ملک کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ رکن ممالک کی اجتماعی دفاعی صلاحیت مضبوط کرنے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اتحاد مستقبل میں مزید وسیع ہوسکتا ہے اور دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے مکہ معاہدے کو مغربی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کرنے کا اصول اپنایا گیا ہے۔

ترکی کے مطابق اس شراکت داری کے نتیجے میں مشترکہ فوجی مشقیں، خصوصی تربیت، دفاعی ٹیکنالوجی کا تبادلہ اور خفیہ معلومات کا اشتراک ممکن ہوگا۔

مغربی ایشیا میں حالیہ کشیدگی اور خلیجی ممالک کو درپیش سکیورٹی خطرات کے بعد یہ دفاعی معاہدہ خاص اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ تاہم ترکی نے واضح کیا ہے کہ اس اتحاد کا مقصد کسی مخصوص ملک کے خلاف محاذ بنانا نہیں۔

مکہ طرز کے دفاعی اتحاد کی تجویز نئی نہیں۔ عرب بہار کے بعد سعودی عرب نے دہشت گردی کے خلاف مسلم ممالک کو متحد کرنے کی کوشش کی تھی، جبکہ مصر نے بھی 2015 میں ایسی تجویز پیش کی تھی، مگر مختلف وجوہات کے باعث وہ آگے نہ بڑھ سکی۔

اب نئے معاہدے سے خطے میں اجتماعی دفاع اور علاقائی تعاون کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button