آبنائے ہرمز کھولنے کی راہ ہموار، سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کا بڑا دفاعی معاہدہ
ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازرانی بحال کرنے کے لیے مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ جلد طے پانے کی توقع ہے، جس کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ سے تجارتی آمدورفت معمول پر آ سکتی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تہران اور مسقط کے درمیان بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے اور معاہدے کا اعلان جلد کیا جا سکتا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق اگر تجارتی جہازوں کی آمدورفت بغیر رکاوٹ بحال ہوتی ہے تو ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔ تاہم امریکی اقدامات کا انحصار ایران کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد سے ہوگا۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ جنگ سے قبل دنیا میں استعمال ہونے والے تقریباً ہر پانچ میں سے ایک بیرل تیل اسی راستے سے گزرتا تھا۔ کشیدگی کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہونے سے عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں اور مہنگائی پر دباؤ بڑھا ہے۔
معاہدے پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے دستخط کیے۔ تینوں ممالک کے مطابق اس معاہدے کا مقصد مشترکہ دفاع اور علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، اسرائیل، امریکہ اور ایران نواز گروہوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور خلیجی ممالک کو سلامتی اور توانائی کے بڑھتے خطرات کا سامنا ہے۔



