حوثیوں کی بڑی فوجی کارروائی، آبنائے ہرمز معاہدہ آخری مرحلے میں
حوثی فورسز نے وسیع فوجی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے یمن کے مأرب اور حضرموت میں ہنگامی فورسز کے کیمپوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق کم از کم ۳۰ افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق حملوں سے جانی و مالی نقصان ہوا ہے، تاہم مکمل تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
دوسری جانب ایران نے اعلان کیا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق معاہدہ حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق دونوں ممالک اہم بحری راستوں کے تعین پر متفق ہو گئے ہیں، جس کے بعد جلد باضابطہ اعلان متوقع ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی فوج کے پاس اسلحے اور گولہ بارود کی کوئی کمی نہیں اور اس حوالے سے سامنے آنے والی خبروں کو گمراہ کن قرار دیا۔ انہوں نے ایسے افراد کے خلاف کارروائی کا بھی عندیہ دیا جنہوں نے حساس معلومات افشا کیں۔
اسی دوران اسرائیل نے جنوبی لبنان پر فضائی حملے جاری رکھے، جبکہ مقبوضہ مغربی کنارہ میں بھی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ قلندیہ مہاجر کیمپ میں مسلسل دوسرے روز چھاپوں کے دوران متعدد فلسطینی زخمی اور درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا۔
دریں اثنا اقوام متحدہ کے امن مشن نے بتایا کہ صرف ایک روز میں اسرائیل نے جنوبی لبنان کی جانب ۱۱۳ گولے داغے، جو حالیہ مہینوں میں سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔



