پیپر لیک، او ایم آر گھوٹالہ اور بدعنوانی، جھارکھنڈ میں طلبہ کا احتجاج کیوں شدت اختیار کر گیا
جھارکھنڈ میں مسابقتی امتحانات میں مبینہ پیپر لیک، او ایم آر گھوٹالے اور بدعنوانی کے خلاف طلبہ اور سرکاری ملازمتوں کے امیدواروں کا احتجاج مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔ بھوک ہڑتال، دھرنوں، مشعل بردار ریلیوں اور اسمبلی مارچ کے ذریعے مظاہرین شفاف تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یہ احتجاج پچیس جولائی کو ریاستی دارالحکومت میں جئے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم سے شروع ہوا، جہاں طلبہ نے دھرنا دیا۔ بعد ازاں اگست میں احتجاج مزید وسیع ہو گیا اور مختلف تنظیموں نے اس میں بھرپور شرکت کی۔
احتجاج کی قیادت جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن اصلاحات منچ، جھارکھنڈ اسٹاف سلیکشن کمیشن اصلاحات منچ اور جھارکھنڈ لوکتانترک کرانتیکاری مورچہ کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ چودہویں ریاستی پبلک سروس کمیشن امتحان کو منسوخ کیا جائے، متعلقہ کمیشنوں میں اصلاحات نافذ کی جائیں اور مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات مرکزی تحقیقاتی ادارے یا ریاست سے باہر کے ریٹائرڈ ہائی کورٹ ججوں پر مشتمل آزاد کمیٹی سے کرائی جائیں۔
احتجاج اس وقت شدت اختیار کر گیا جب دو جولائی کو ابتدائی امتحان کے نتائج جاری ہوئے۔ امیدواروں نے الزام لگایا کہ زمرہ وار کٹ آف، انفرادی نمبرات اور سرکاری او ایم آر جوابی کلید جاری نہیں کی گئی، جس سے شفافیت پر سوالات اٹھے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ ریاست میں اس سے پہلے بھی اسٹاف سلیکشن کمیشن کے امتحانات پیپر لیک اور منسوخی کے تنازعات کا شکار رہے، لیکن حکومت نے مؤثر اصلاحات نہیں کیں۔
طلبہ کا الزام ہے کہ ریاستی حکومت معاملے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں جاری تحقیقاتی عمل پر اعتماد نہیں، کیونکہ ماضی میں بھی اسی نوعیت کے مقدمات میں متعدد سوالات لیک ہونے کی تصدیق ہو چکی تھی، مگر ذمہ داروں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں ہوئی۔



