آبنائے ہرمز معاہدہ آخری مرحلے میں، خطے میں جنگی کشیدگی برقرار
ایران نے اعلان کیا ہے کہ سلطنتِ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے سے متعلق معاہدہ آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق دونوں ممالک اہم بحری راستوں کے تعین پر متفق ہو گئے ہیں اور معاہدے کو جلد حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں امریکی فوج کے پاس ہتھیاروں کی کمی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاس اسلحہ اور گولہ بارود کی بہت بڑی مقدار موجود ہے، جبکہ ایسی معلومات افشا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
ادھر یمن کے حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بحیرۂ احمر اور خلیجِ عدن میں سعودی عرب کے دو تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔
لبنان کے جنوبی دیہات میں اسرائیلی ڈرونز مسلسل نچلی پروازیں کر رہے ہیں، جبکہ توپ خانے کی گولہ باری سے خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق آٹھ لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں کو واپس آ چکے ہیں، تاہم تین لاکھ ساٹھ ہزار افراد اب بھی بے گھر ہیں۔ حالیہ حملوں کے بعد مزید نقل مکانی کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں، جس سے پورے خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔



