بین الاقوامیعرب دنیا

مظتبیٰ خامنہ ای سے خفیہ ملاقات یا بڑا راز تاریکی میں ہونے والی ملاقات نے شکوک بڑھا دیے

ایران کے سپریم لیڈر مظتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور موجودگی سے متعلق قیاس آرائیاں ایک بار پھر زور پکڑ گئی ہیں۔ مختلف غیر مصدقہ رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے حملوں میں شدید زخمی ہونے کے بعد وہ عوامی سطح پر نظر نہیں آئے، جس کے باعث ان کی حالت کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کئی مرتبہ ملاقات کی درخواست کی، جس کے بعد مبینہ طور پر تہران کے ایک انتہائی خفیہ مقام پر ملاقات کا انتظام کیا گیا۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ملاقات ایک ایسی گاڑی میں ہوئی جس کے شیشے سیاہ تھے اور اندر مکمل اندھیرا تھا، یہاں تک کہ دونوں ایک دوسرے کا چہرہ بھی واضح طور پر نہیں دیکھ سکے۔

غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا کہ ملاقات کے دوران نہ مصافحہ ہوا اور نہ ہی صدر پزشکیان کو سامنے موجود شخص کی شناخت کی تصدیق کا موقع ملا، جس کے بعد یہ سوالات اٹھنے لگے کہ آیا وہ واقعی مظتبیٰ خامنہ ای تھے یا کوئی اور۔

رپورٹس کے مطابق چند منٹ کی گفتگو کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے صدر کو فوری طور پر وہاں سے روانہ ہونے کو کہا۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صدر نے اس ملاقات کے انداز کو غیر معمولی اور توہین آمیز محسوس کیا۔

دوسری جانب ایسی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ صدر پزشکیان نے مبینہ طور پر اپنے استعفے میں الزام لگایا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب ریاستی فیصلوں میں غیر معمولی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ایک بیان منسوب کیا جا رہا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ مظتبیٰ خامنہ ای کی حالت انتہائی تشویشناک ہے، تاہم اس دعوے کی بھی کسی آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہوئی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button