شیخ حسینہ کا بڑا اعلان، دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آؤں گی، نہ گرفتاری کا خوف نہ موت کی پروا
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ دسمبر میں اپنے وطن واپس جائیں گی، چاہے انہیں گرفتار کر لیا جائے یا سزائے موت کا سامنا کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی واپسی اقتدار حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ جمہوریت، انصاف، ترقی، سیکولرزم اور خوشحالی کی بحالی کے لیے ہوگی۔
بھارت میں مقیم اٹھہتر سالہ شیخ حسینہ نے گزشتہ برس ڈھاکہ چھوڑنے کے بعد پہلی مرتبہ ایک ورچوئل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "مجھے معلوم ہے کہ مجھے جیل بھیجا جا سکتا ہے یا قتل بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن میں نے واپس جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ واپسی کی تاریخ بعد میں بتائی جائے گی۔”
انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوامی لیگ پر عائد پابندی ختم کی جائے، ان اور ان کی جماعت کے رہنماؤں کے خلاف قائم مقدمات واپس لیے جائیں اور ملک میں آزادیٔ اظہار بحال کی جائے۔
شیخ حسینہ نے موجودہ صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں انہوں نے اپنے "محبوب بنگلہ دیش” کو مشکلات میں گھرا دیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جولائی اور اگست دو ہزار چوبیس کے احتجاج محض طلبہ کی پرامن تحریک نہیں تھے بلکہ منظم گروہوں نے انہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس کے اپنے بیانات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک منظم منصوبہ تھا۔ ان کے مطابق حکومت نے ابتدا میں مذاکرات، قانونی طریقہ کار اور تحمل سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی، مگر حالات کو پرتشدد رخ دیا گیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال ڈھاکہ کی ایک خصوصی عدالت نے دو ہزار چوبیس کے طلبہ احتجاج کے دوران مبینہ انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں شیخ حسینہ کو ان کی عدم موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔



