بین الاقوامیعرب دنیا

مزاحمت ہی مؤثر راستہ ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کا بیان

ایران کے سپریم رہنما مجتبیٰ خامنہ ای نے لبنان میں سرگرم حزب اللہ کی مکمل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کا مقابلہ صرف مزاحمت کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔

اپنے خصوصی پیغام میں انہوں نے حزب اللہ کی اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دنیا امریکی بالادستی اور دباؤ کی پالیسیوں سے تنگ آ چکی ہے۔ ان کے مطابق خطے میں امن اسی وقت ممکن ہے جب لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں بند ہوں اور کشیدگی کا خاتمہ ہو۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے واضح کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتا جب تک خطے میں فوجی کارروائیاں اور کشیدگی برقرار رہیں۔ انہوں نے حزب اللہ کے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں اور اسے ایک اسٹریٹجک ہدایت کے طور پر اختیار کریں۔

دوسری جانب حزب اللہ نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اپنی وابستگی اور حمایت کا اعادہ کیا۔ تنظیم نے کہا کہ وہ خطے میں اپنے مؤقف پر قائم رہے گی اور موجودہ حالات میں اپنے فیصلوں پر عمل جاری رکھے گی۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے تازہ پیغام میں کہا کہ مزاحمت ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے امریکی اقدامات کو روکا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا اب طاقت کے استعمال اور دباؤ کی سیاست سے تھک چکی ہے، اس لیے خطے میں پائیدار امن کے لیے طاقت کے بجائے انصاف اور خودمختاری کا احترام ضروری ہے۔

ان کے اس بیان کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع پر عالمی برادری بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button