بین الاقوامیعلاقائی خبریںقومی

وزیر اعظم کی ویڈیو ہٹانے پر میٹا کو تین دن کی مہلت، معافی نہ مانگی تو سخت کارروائی کا انتباہ

پارلیمانی قائمہ کمیٹی نے میٹا کے سربراہ مارک زکربرگ کو تین دن کے اندر غیر مشروط معافی مانگنے کی مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو قانونی تحفظ واپس لینے اور ناشر کے طور پر کارروائی کرنے کی سفارش کی جا سکتی ہے۔

پارلیمانی سیکریٹریٹ کی جانب سے وزارتِ الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے سیکریٹری کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی طلبہ اور نئی نسل سے متعلق تقریر پر مشتمل ویڈیو کو فیس بک سے پانچ سے چھ گھنٹوں کے لیے ہٹانا انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔ کمیٹی نے اس اقدام پر مارک زکربرگ سے غیر مشروط معافی کا مطالبہ کیا ہے۔

کمیٹی نے مزید زور دیا کہ ایسے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم جو بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد یا خواتین کی توہین پر مبنی مواد کو بروقت نہ ہٹائیں، ان کے خلاف بھی متعلقہ قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔

اجلاس میں گوگل سے متعلق ایک معاملہ بھی زیر بحث آیا، جس میں مبینہ طور پر جعلی سرمایہ کاری ایپلی کیشنز کے ذریعے شہریوں سے لاکھوں روپے کا دھوکا کیا گیا۔ کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسے معاملات میں بھی سخت کارروائی یقینی بنائی جائے۔

یہ خط دو روز قبل ہونے والے اجلاس کے بعد جاری کیا گیا، جس میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور مختلف سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز کے نمائندوں نے شرکت کی۔

کمیٹی کے چیئرمین نشیکانت دوبے نے کہا کہ اگر وزیر اعظم کی سرکاری ویڈیو بھی عارضی طور پر ہٹ سکتی ہے تو عام شہریوں کے مواد کا تحفظ کیسے یقینی بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ معاملہ محض تکنیکی خرابی قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کی مکمل وضاحت ضروری ہے۔

دوسری جانب میٹا نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو غلطی سے ہٹ گئی تھی، جسے بعد میں بحال کر دیا گیا اور کمپنی نے اس پر معذرت بھی کی۔ تاہم وزارتِ الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی نے اس وضاحت کو ناکافی قرار دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button