قطر کے وزیر اعظم کا تہران دورہ، امریکہ ایران مذاکرات بحال کرانے کی کوشش
قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی جمعرات کو تہران کا دورہ کریں گے، جہاں وہ ایرانی حکام سے ملاقات کرکے امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات بحال کرنے اور کشیدگی کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق دورے کا مقصد بات چیت کے لیے سازگار حالات پیدا کرنا ہے۔
قطر کی ثالثی پھر متحرک
ایران نے دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملاقاتوں میں قطر کی ثالثی کوششوں اور علاقائی صورتحال پر گفتگو ہوگی۔ قطر ماضی میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان پس پردہ رابطوں میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔ جون میں قطر کی کوششوں سے مفاہمتی یادداشت طے ہوئی تھی، جس سے عارضی طور پر لڑائی رکی، تاہم جولائی میں یہ انتظام ختم ہوگیا۔
آبنائے ہرمز پر اختلاف برقرار
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نئی پابندیوں کو ریاستی اور معاشی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ ممالک انہیں نافذ نہ کریں۔ دونوں ملک آبنائے ہرمز کے مستقبل پر اختلاف رکھتے ہیں۔ ایران اس آبی راستے پر کنٹرول چاہتا ہے، جبکہ امریکہ اسے عالمی بحری راستہ برقرار رکھنے پر زور دیتا ہے۔
علاقائی سفارت کاری میں تیزی
قطر کے دورے سے دو روز قبل عمان کے وزیر خارجہ نے تہران میں ایرانی ہم منصب سے ملاقات کی، جس کے بعد آبنائے ہرمز میں ایک عارضی بحری راستے پر اتفاق کی اطلاع سامنے آئی۔ پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بھی تہران کا دورہ کرکے تعطل ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔



