تلنگانہحیدرآبادعلاقائی خبریںقومی

حیدرآباد: الیکشن لسٹ سے 19 لاکھ ووٹرز بے دخل، 40 فیصد مسلم نام شامل

حیدرآباد الیکشن کمیشن کے مصدقہ اعداد و شمار کے حالیہ تجزیے سے انکشاف ہوا ہے کہ حیدرآباد ضلع میں خصوصی تفصیلی نظرثانی کے ابتدائی مسودے سے خارج کیے گئے 19 لاکھ 41 ہزار 444 ووٹرز میں سے تقریباً 7 لاکھ 77 ہزار یعنی لگ بھگ 40 فیصد نام مسلمانوں کے ہیں۔

انتخابی فہرستوں میں کمی اور مسلم ووٹرز کا تناسب

تجزیاتی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے 17 اگست کو جاری کردہ ابتدائی فہرست کے 4,094 پولنگ ایریا دستاویزات کے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ خارج ہونے والے مسلم ووٹرز کا تناسب 37.4 فیصد سے 42.7 فیصد کے درمیان ہے، جس کا مرکزی تخمینہ 7 لاکھ 77 ہزار بنتا ہے۔ حیدرآباد میں نظرثانی کے آغاز پر ووٹرز کی تعداد 47 لاکھ 36 ہزار 669 تھی جو کم ہو کر 27 لاکھ 95 ہزار 225 رہ گئی، یعنی ضلع کے مجموعی ووٹرز میں سے 41 فیصد نام فہرست سے نکال دیے گئے۔

ناموں کے اخراج کی وجوہات اور اضلاع کا تقابل

الیکشن کمیشن نے خارج کیے گئے ووٹرز کو چار بنیادی زمروں یعنی غیر حاضر، منتقل شدہ، فوت شدہ اور دوہرے اندراج میں تقسیم کیا ہے۔ کل اخراج میں سے 13 لاکھ 45 ہزار 333 یعنی 69 فیصد نام منتقل شدہ قرار دیے گئے۔ اس کے علاوہ 3 لاکھ 40 ہزار غیر حاضر، ایک لاکھ 56 ہزار فوت شدہ اور 99 ہزار دوہرے اندراج کی وجہ سے خارج کیے گئے۔ ریاست بھر میں حذف کیے گئے 73.38 لاکھ ناموں میں سے 43 لاکھ نام اکیلے حیدرآباد، رنگاریڈی اور میچل ملکاجگری اضلاع پر مشتمل شہری پٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔

اعتراضات اور اندراج کا طریقہ کار

متاثرہ شہریوں کو الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی باضابطہ نوٹس جاری نہیں کیا جائے گا۔ تاہم ملک میں موجود ووٹرز فارم 6 اور بیرون ملک مقیم افراد فارم 6 اے بھر کر دوبارہ اپنے نام درج کرا سکتے ہیں۔ دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ 16 ستمبر مقرر کی گئی ہے، جبکہ حتمی انتخابی فہرست 19 اکتوبر کو شائع کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button