سیلاب سے تباہ نیپال میں سڑکیں اور پل بحال کرنے کی کوشش، بھارت اور چین کی مدد
نیپال میں سیلاب کے بعد حکام بھارت اور چین کی مدد سے سڑک رابطے بحال کرنے اور پل نصب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ 26 اگست کی آفت میں ہلاکتوں کی تعداد پیر تک 1,356 ہوگئی، جبکہ 4,994 افراد لاپتہ ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق 13,396 افراد کو بچایا جاچکا ہے۔
پلوں اور سڑکوں کی بحالی
سیلاب نیپال۔تبت سرحد کے قریب برف اور چٹانوں کے تودے گرنے کے بعد آیا، جس سے بھوٹیکوشی دریا میں شدید طغیانی پیدا ہوئی۔ پانی نے مکانات، گاڑیاں، سڑکیں اور پل بہا دیے۔ نیپال نے بھارت اور چین سے پل مانگے، جس پر دونوں نے مثبت جواب دیا۔
چین نے مستنگ کے کورالا مقام کے لیے 100 میٹر لمبے دو بیلی پل بھیج دیے ہیں۔ محکمہ سڑک کے مطابق سڑکوں اور پلوں کو 30 ارب نیپالی روپے کا نقصان پہنچا ہے، جبکہ تعمیر نو پر 50 ارب روپے خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔
سیلاب نے راسووا اور چتوان کے درمیان 41 موٹر پل تباہ کردیے اور چار کو جزوی نقصان پہنچا۔ 63 پلوں میں صرف 18 باقی ہیں۔ راسووا میں نوواکوت سے رابطہ منقطع ہوا، جبکہ فرکے کھولا کا پل تباہ ہونے سے دھادنگ بیسی اور پرتھوی شاہراہ کے درمیان راستہ ٹوٹ گیا۔
بھارت کی مدد، ریسکیو مشکلات
محکمہ سڑک کے پاس 48 میٹر تک لمبے 11 بیلی پل ہیں، مگر تباہ شدہ راستوں کے باعث انہیں متاثرہ مقامات تک پہنچانا مسئلہ ہے۔
دریں اثنا لاشوں کی شناخت مشکل ہوگئی ہے۔ پیر تک 98 لاشوں کی شناخت کرکے ورثا کے حوالے کی گئی۔ چین کے علاقے تبت میں 43 افراد ہلاک اور 500 سے زیادہ لاپتہ ہیں۔



