ایران کے نئے حملے، اربیل نشانہ، امریکی کارروائی میں چار افراد ہلاک
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایرانی ڈرونز نے عراق کے شہر اربیل کو نشانہ بنایا، جبکہ امریکی فضائی حملوں میں اہواز میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے۔ دوسری جانب امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے مسلسل تیرہویں رات بھی ایران میں فضائی کارروائیاں کیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق خرم آباد، جاسک، اہواز اور بندر عباس سمیت کئی شہروں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔
ایران کی وزارت صحت کے مطابق حالیہ امریکی حملوں میں اب تک 55 افراد ہلاک اور 645 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ زخمیوں میں سے 586 افراد علاج کے بعد گھروں کو واپس جا چکے ہیں، جبکہ چند زخمی اب بھی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ سب سے زیادہ جانی نقصان خوزستان، ہرمزگان اور سیستان و بلوچستان صوبوں میں ہوا ہے۔
اسی دوران بحرین، اردن اور اربیل میں بھی خطرے کے سائرن بجائے گئے، جبکہ مختلف علاقوں میں فضائی دفاعی نظام کو متحرک کر دیا گیا۔
دوسری جانب فلسطینی وزارت خارجہ نے مغربی کنارے کے ایک گاؤں میں اسرائیلی آبادکاروں کی کارروائی کو قتل عام قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ وزارت کے مطابق حملے میں کم از کم چار فلسطینی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ اسرائیلی فورسز پر آبادکاروں کی سرپرستی کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی مشرق وسطیٰ کے امن، عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے لیے نئے خدشات پیدا کر رہی ہے۔



