امریکا کا ایران پر نیا حملہ، تہران کا سخت جواب دینے کا انتباہ
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ مسلسل بارہویں رات بھی امریکی فوج نے ایران کے مختلف علاقوں میں فضائی اور میزائل حملے کیے، جبکہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے شہری یا بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو ہر حملے کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق اہواز، رامشیر اور اندیمشک کے قریب متعدد مقامات پر امریکی میزائل حملے کیے گئے۔ سرحدی قصبے شلمچہ میں ایک حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہونے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اب "آنکھ کے بدلے آنکھ” کی دفاعی حکمت عملی پر عمل کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے شہریوں یا بنیادی تنصیبات پر ہونے والی ہر جارحیت کا طاقتور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کے خلاف تازہ کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہے جس کے ذریعے وہ اہم سمندری راستوں اور تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز میں عالمی بحری آمدورفت کو محفوظ بنانا ان کارروائیوں کا اہم مقصد بتایا گیا ہے۔
اسی دوران امریکی وزیر خارجہ اور روسی وزیر خارجہ کے درمیان ملاقات بھی ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے تعلقات اور روس۔یوکرین جنگ کے خاتمے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ادھر یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بحیرہ احمر میں دو سعودی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اس حملے کے بعد خطے میں ایک نئے محاذ کے کھلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ عالمی سطح پر تیل، ایندھن اور تجارتی اشیا کی قیمتوں میں مزید اضافے کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔



