علاقائی خبریںقومی

آسام میں سیلاب کی تباہی جاری، ہلاکتیں 41، سات لاکھ سے زائد افراد متاثر

آسام میں مسلسل مون سون کی شدید بارشوں نے تباہی مچا دی ہے۔ ریاست میں سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 41 ہو گئی ہے، جبکہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 10 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ سرکاری حکام کے مطابق سات لاکھ سے زائد افراد اس آفت سے متاثر ہوئے ہیں اور 100 سے زیادہ افراد اب بھی لاپتا ہیں۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے مشرقی آسام کی صورتحال کو گزشتہ 60 برسوں کا بدترین سیلاب قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق غیر معمولی بارش اور بالائی علاقوں میں شدید موسلا دھار بارش کے باعث دریاؤں میں پانی خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔

شیواساگر، جورہاٹ، لکھیم پور اور گولاگھاٹ سمیت کئی اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ سیکڑوں دیہات، زرعی زمینیں اور اہم سڑکیں زیرِ آب آ چکی ہیں، جس کے باعث ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

فوج، قومی آفات سے نمٹنے والی ٹیم اور ریاستی امدادی دستوں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے اب تک 700 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا ہے۔ حکومت نے متاثرین کے لیے 148 امدادی کیمپ قائم کیے ہیں، جہاں تقریباً 30 ہزار بے گھر افراد کو رہائش اور ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ دشوار گزار علاقوں میں ڈرون کے ذریعے خوراک اور امدادی سامان بھی پہنچایا جا رہا ہے۔

محکمہ موسمیات نے آئندہ چار روز مزید بارش کی پیش گوئی کی ہے، جس کے بعد سیلاب کی صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ نے دریاؤں کے کنارے رہنے والے شہریوں کو محتاط رہنے، غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور بجلی کی تنصیبات سے دور رہنے کی ہدایت دی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button