علاقائی خبریںقومی

پرچہ لیک روکنے کے لیے نیا قانون، مرکزی کابینہ میں اہم غور و خوض

نیٹ پرچہ لیک اور دیگر امتحانات میں بے ضابطگیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد مرکزی کابینہ کا ایک اہم اجلاس وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں پرچہ لیک روکنے کے لیے نئے قانونی مسودے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت لانے اور طلبہ کے مستقبل کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں سخت سزاؤں، بھاری جرمانوں اور مقدمات کے جلد فیصلے کے لیے خصوصی فوری عدالتوں کے قیام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کابینہ کے ارکان کی تجاویز کے بعد اس مسودۂ قانون کو حتمی شکل دی جائے گی۔

وزیر اعظم نے حال ہی میں اپنے خصوصی پیغام میں کہا تھا کہ پرچہ لیک میں ملوث افراد کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت جلد از جلد نیا قانون منظور کرا کے امتحانات میں دھوکہ دہی کے رجحان کا خاتمہ کرے گی۔

اطلاعات کے مطابق حکومت موجودہ داخلہ امتحانات میں بدعنوانی کی روک تھام سے متعلق قانون میں ترمیم کر کے سزا کی مدت میں اضافہ اور مجرموں پر زیادہ مالی جرمانے عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ بل آئندہ ہفتے پارلیمنٹ میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب مرکزی حکومت نے عوامی تنظیم کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی، جس میں نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی نظام میں اصلاحات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ تاہم تنظیم کے بانی نے واضح کیا کہ جب تک مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیتے، ان کا احتجاج جاری رہے گا۔

ادھر ملک کے مختلف حصوں میں طلبہ کی جانب سے شفاف امتحانی نظام، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبات مسلسل زور پکڑ رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے مجوزہ قانون کو اسی سلسلے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button