تعلیمعلاقائی خبریںقومی

دھرمیندر پردھان کی پانچ سالہ تعلیمی کارکردگی، اصلاحات، کامیابیاں اور تنازعات

مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی وزارتِ تعلیم کا پانچ سالہ دور متعدد تعلیمی اصلاحات، نئی پالیسیوں اور مختلف چیلنجز سے بھرپور رہا۔ حالیہ سیاسی پیش رفت کے بعد ان کی کارکردگی ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔

دھرمیندر پردھان نے وزارت سنبھالنے کے بعد قومی تعلیمی پالیسی 2020 پر عمل درآمد کو تیز کیا۔ ان کے دور میں قومی نصابی خاکہ، لچکدار تعلیمی نظام، کثیر شعبہ جاتی تعلیم اور اعلیٰ تعلیم میں کئی نئی اصلاحات متعارف کرائی گئیں۔ اسکولی تعلیم میں بھی اساتذہ کی تربیت، تین زبانوں کا فارمولہ اور سرکاری اسکولوں کی بہتری کے لیے مختلف منصوبے شروع کیے گئے۔

وزارت کی جانب سے بارہا اس بات پر زور دیا گیا کہ تعلیمی اداروں میں کارکردگی، جوابدہی اور ہنر پر مبنی تعلیم کو فروغ دیا جائے، تاکہ نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آ سکیں۔ حکومت نے تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی کوششوں کو اپنی اہم کامیابی قرار دیا۔

تاہم ان اصلاحات پر کئی حلقوں نے اعتراضات بھی اٹھائے۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ بعض فیصلوں میں مرکزیت کو زیادہ اہمیت دی گئی، جبکہ مختلف ریاستوں کی تعلیمی ضروریات اور ثقافتی تنوع کو مناسب انداز میں مدنظر نہیں رکھا گیا۔ کئی منصوبے ابھی تک مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکے اور ان پر عمل درآمد کا عمل جاری ہے۔

تعلیمی ماہرین کے مطابق آئندہ آنے والے وزیر تعلیم کو ان اصلاحات کو مکمل کرنا، امتحانی نظام کو مزید شفاف بنانا اور طلبہ و اساتذہ کو درپیش مسائل کے حل پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔

دھرمیندر پردھان کا دور ایک ایسے مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس میں بڑی اصلاحات تو متعارف کرائی گئیں، لیکن ان کی مکمل کامیابی کا انحصار مؤثر عمل درآمد اور مستقبل کی حکومتی پالیسیوں پر ہوگا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button