علاقائی خبریںقومی

تحریک دوبارہ شروع ہوگی؟ تنظیم کا حکومت سے تحریری یقین دہانی کا مطالبہ

کاکروچ جنتا پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران درج کیے گئے مقدمات واپس لینے اور آئندہ کسی بھی مظاہرین یا منتظم کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی تحریری یقین دہانی فوری طور پر دی جائے، بصورت دیگر تنظیم دوبارہ احتجاج شروع کرنے پر مجبور ہوگی۔

تنظیم کے قومی ترجمان آشوتوش رانکا نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ جنتر منتر پر جاری 36 روزہ احتجاج ختم کرنے سے قبل حکومت کے ساتھ ہونے والے تیسرے دور کے مذاکرات میں اس معاملے پر اتفاق ہوا تھا۔ ان کے مطابق ملک بھر میں مظاہرین اور منتظمین کے خلاف درج تمام مقدمات واپس لینے اور مستقبل میں نئے مقدمات درج نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ تنظیم نے مجوزہ معاہدے کا مسودہ مرکزی وزرا کو پیش کیا تھا اور قانونی مشاورت کے بعد حکومت نے تحریری معاہدہ فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم اگر مقررہ وقت تک یہ تحریری یقین دہانی نہ ملی یا گرفتار طلبہ اور مظاہرین کو رہا نہ کیا گیا تو تنظیم دوبارہ احتجاج کا راستہ اختیار کرے گی۔

تنظیم کے ایک اور ترجمان سوربھ داس نے کہا کہ احتجاج حکومت کی یقین دہانی پر نیک نیتی کے ساتھ ختم کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق تنظیم کو مختلف ریاستوں، خصوصاً آسام، مغربی بنگال اور بہار سے اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ کئی طلبہ اور مظاہرین کو حراست میں لیا گیا یا ان کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

سینئر وکیل کپل سبل نے بھی اس موقع پر کہا کہ پرامن احتجاج میں شریک طلبہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ یہ ایک فطری عوامی تحریک تھی۔ انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے کو جرم نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

یاد رہے کہ تنظیم نے امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف شروع ہونے والی اپنی 36 روزہ تحریک حکومت کی یقین دہانی کے بعد ختم کی تھی، تاہم اب تحریری معاہدے کے انتظار میں ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button