نیٹ پیپر لیک احتجاج جنتر منتر پر مظاہرین پر پلاسٹک پیلٹس اور شیل فائر کرنے کا انکشاف
جنتر منتر پر نیٹ پیپر لیک تنازع کے خلاف 20 جولائی کو نکالے گئے سنسد چلو مارچ کے دوران ریپڈ ایکشن فورس اور دہلی پولیس کی جانب سے پلاسٹک پیلٹس اور غیر مہلک شیل فائر کیے جانے کا انکشاف پولیس کے سرکاری ریکارڈ میں ہوا ہے۔ پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے کی جنرل ڈائری کی انٹری کے مطابق اس دن مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لیے مختلف قسم کے ہتھیار استعمال کیے گئے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق ڈی سی پی رینک کے افسر کی ہدایات پر آر اے ایف کے اہلکاروں نے 55 غیر مہلک شیل، 15 الیکٹریکل شیل، 5 آنسو گیس کے گرینیڈ، اینٹی رائٹ گنز کے دو راؤنڈز اور پلاسٹک پیلٹس کے دو راؤنڈز فائر کیے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پلاسٹک پیلٹ کا ایک راؤنڈ چار ٹکڑوں پر مشتمل ہوتا ہے اور یہ دھاتی پیلٹس سے بالکل مختلف ہوتے ہیں جو جسم کو چھیدتے نہیں اور زیادہ نقصان نہیں پہنچاتے۔
اس واقعے کے بعد سیاسی پارلیمانی ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ سے پارلیمنٹ میں بیان دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ احتجاج کاکروچ جنتا پارٹی کی طرف سے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر کیا گیا تھا۔ ہفتے کے دن مرکزی وزیر تعلیم کے استعفے کے بعد ایک ماہ سے جاری احتجاج ختم کر دیا گیا۔



