کروکشیتر کے نوجوان انجینئر نے کچرے سے کامیابی کی نئی مثال قائم کر دی
ہریانہ کے شہر کروکشیتر سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان انجینئر نے کچرے کو قیمتی وسائل میں تبدیل کر کے ایک منفرد مثال قائم کر دی ہے۔ گورو کجال نامی اس نوجوان نے نہ صرف اپنا مستقبل سنوارا بلکہ ماحول کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
گورو کجال نے اپنی کم تنخواہ والی ملازمت چھوڑ کر سال 2022 میں اپنا کاروبار شروع کیا، جس کا مقصد کچرے کو کارآمد مصنوعات میں تبدیل کرنا تھا۔ انہوں نے ضائع شدہ کاغذ سے ماحول دوست پیکنگ میٹریل تیار کرنا شروع کیا جو پلاسٹک اور تھرموکول کا بہترین متبادل ہے۔
گورو کا کہنا ہے کہ انہوں نے دہلی میں بڑھتی ہوئی آلودگی اور کچرے کے ڈھیروں کو دیکھ کر یہ قدم اٹھایا۔ ابتدا میں انہیں صرف بارہ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی، لیکن آج ان کا کاروبار سالانہ تقریباً اسی لاکھ روپے کا ہو چکا ہے۔
ان کی کمپنی "بالاجی فائبر پروڈکٹس” گھروں اور دفاتر سے کاغذی کچرا جمع کر کے اسے قابل استعمال پیکنگ مصنوعات میں تبدیل کرتی ہے، جو استعمال کے بعد آسانی سے دوبارہ قابل استعمال ہو جاتی ہیں اور زمین میں بھی تحلیل ہو سکتی ہیں۔
یہ مصنوعات نہ صرف ہندوستان بلکہ بیرون ممالک جیسے برطانیہ، امریکہ اور جرمنی میں بھی فروخت ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ اس کاروبار کے ذریعے کئی افراد کو روزگار بھی فراہم کیا گیا ہے۔
گورو کجال کی یہ کوشش نہ صرف پلاسٹک کے خاتمے میں مددگار ہے بلکہ یہ ایک کامیاب کاروباری ماڈل بھی ثابت ہو رہی ہے، جو نوجوانوں کے لیے ایک مثال ہے۔



