چونتیس برس بعد اسرائیل اور لبنان قیادت کا ممکنہ اہم رابطہ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے رہنماؤں کے درمیان ایک تاریخی ملاقات متوقع ہے، جو گزشتہ چونتیس برس کے بعد پہلی بڑی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان یہ رابطہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ اگرچہ انہوں نے رہنماؤں کے نام واضح نہیں کیے، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون شامل ہو سکتے ہیں۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان سن 1948 سے تنازع جاری ہے اور دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات موجود نہیں ہیں۔ ماضی میں بھی محدود سطح پر مذاکرات ہوئے، تاہم اعلیٰ قیادت کے درمیان رابطہ نہ ہونے کے برابر رہا ہے۔
موجودہ صورتحال میں لبنان کی جانب سے کسی بھی ملاقات کے لیے جنگ بندی کی شرط سامنے آ سکتی ہے، جبکہ اسرائیل تاحال اس پر آمادہ نظر نہیں آتا۔ اسرائیلی حکومت نے حالیہ اجلاس میں لبنان کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی پر غور کیا، لیکن کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکا۔
دوسری جانب اطلاعات کے مطابق جنوبی لبنان کے اہم علاقے میں کارروائی مکمل ہونے کے بعد جنگ بندی کا اعلان ممکن ہے۔ اس تنازع نے خطے میں پہلے سے جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اگر یہ ملاقات ہوتی ہے تو یہ نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی جانب ایک قدم ہو گا بلکہ خطے میں امن کے امکانات کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔



