ایران نے چینی سیٹلائٹ کی مدد سے امریکی فوجی اڈوں کی نگرانی کی
نئی پیش رفت کے طور پر ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے کہ ایران نے خفیہ طور پر ایک چینی ساختہ سیٹلائٹ حاصل کر کے اسے امریکی فوجی اڈوں کی نگرانی کے لیے استعمال کیا۔ رپورٹ کے مطابق اس سیٹلائٹ کا نام ٹی ای ای-01 بی ہے، جسے ابتدائی طور پر ایک چینی کمپنی نے تیار کیا اور خلا میں بھیجا، بعد ازاں اسے ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کے حوالے کر دیا گیا۔
یہ سیٹلائٹ ایک منفرد نظام کے تحت فراہم کیا گیا جسے "مدار میں منتقلی” کہا جاتا ہے، یعنی سیٹلائٹ کو خلا میں پہنچنے کے بعد خریدار کے حوالے کیا جاتا ہے۔ ایرانی حکام نے اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے خطے میں اہم امریکی فوجی تنصیبات پر نظر رکھی۔
رپورٹ کے مطابق اس سیٹلائٹ نے سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس، اردن کے ہوا ئی اڈے، بحرین میں امریکی بحریہ کے ہیڈکوارٹر، اور عراق کے اربیل ایئرپورٹ کی تصاویر حاصل کیں۔ اس کے علاوہ کویت، عمان اور جبوتی میں موجود اہم تنصیبات بھی اس کی نگرانی میں رہیں۔
مزید یہ کہ سیٹلائٹ نے خلیجی ممالک کے اہم شہری مراکز، بندرگاہوں اور بجلی کے منصوبوں کی بھی نگرانی کی، جس سے خطے میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
دوسری جانب چین نے ان الزامات کی تردید کی ہے، تاہم یہ انکشاف خطے میں طاقت کے توازن اور سیکیورٹی صورتحال پر بڑے اثرات ڈال سکتا ہے۔



