ایک گھنٹے میں سات دعوے، سب غلط: ایران کا ٹرمپ کے آبنائے ہرمز بیان پر ردعمل
ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جہاں دونوں ممالک کے بیانات میں واضح تضاد سامنے آیا ہے۔ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے بحری ناکہ بندی جاری رکھی تو آبنائے ہرمز بند کر دی جائے گی۔
قالیباف نے کہا کہ اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے جہازوں کو صرف ایران کی اجازت اور طے شدہ راستے کے تحت ہی گزرنے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات کا فیصلہ میدان میں ہوگا، نہ کہ بیانات یا سوشل میڈیا پر۔
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کے لیے مکمل طور پر کھلی ہے، تاہم یہ سہولت مخصوص شرائط کے تحت دی جا رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کے برعکس کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہونے تک ناکابندی برقرار رہے گی۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو دوبارہ حملے شروع کیے جا سکتے ہیں۔
ایرانی قیادت نے ٹرمپ کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایک گھنٹے میں کئی غلط دعوے کیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس راستے کی بندش سے تیل کی قیمتوں اور سپلائی پر شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال خطے میں مزید کشیدگی اور عالمی سطح پر توانائی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔



