اسمبلی میں نامناسب الفاظ کے استعمال پر بحث، وزیرِ اعلیٰ ریونتھ ریڈی پر تنقید
تلنگانہ اسمبلی کے سرمائی اجلاس کے دوران وزیرِ اعلیٰ اے ریونتھ ریڈی کے مبینہ نازیبا اور توہین آمیز ریمارکس پر شدید سیاسی ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں وزیرِ اعلیٰ کو یہ کہتے سنا گیا کہ ایسے الفاظ میں منتخب نمائندوں پر تنقید کی گئی جو پارلیمانی روایات کے منافی سمجھے جا رہے ہیں۔ اگرچہ یہ جملہ کس پس منظر میں کہا گیا، اس کی وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم اپوزیشن نے اسے اسمبلی کے وقار کے خلاف قرار دیا۔
واقعے کے وقت ایم آئی ایم کے فلور لیڈر اور چندرائن گٹہ کے رکن اسمبلی اکبرالدین اویسی بھی ایوان میں موجود تھے، جو اس موقع پر ناخوشگوار صورتحال پر قدرے پریشان نظر آئے۔
اس بیان پر بھارت راشٹرا سمیتی نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ پارٹی نے آبپاشی سے متعلق مباحثے کا بائیکاٹ کیا، جن میں خاص طور پر پلامورو رنگا ریڈی لفٹ آبپاشی منصوبہ اور کرشنا دریا آبی تنازع شامل تھا۔ بی آر ایس قائدین نے وزیرِ اعلیٰ پر غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے غیر مشروط معافی کا مطالبہ کیا۔
سدی پیٹ کے رکن اسمبلی ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ کے الفاظ نہایت قابلِ اعتراض اور نازیبا تھے۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض بیانات سے مجرمانہ نیت ظاہر ہوتی ہے اور یہ افسوسناک ہے کہ اسپیکر نے مداخلت نہیں کی۔



