کابل کے ہوٹل میں دھماکہ، 7 افراد ہلاک، کئی زخمی
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک بار پھر خونریز دھماکے نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ شہرِ نو کے علاقے میں واقع ایک ہوٹل میں ہونے والے زور دار بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم سات افراد جاں بحق جبکہ کئی دیگر زخمی ہو گئے۔ اس واقعے کی تصدیق طالبان کی وزارتِ داخلہ نے کی ہے۔
ذرائع کے مطابق دھماکہ پیر کے روز اس ہوٹل میں ہوا جو ایک محفوظ اور غیر ملکیوں کی رہائش کے لیے جانا جاتا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ مذکورہ ہوٹل کو چینی شہریوں کی موجودگی کے باعث خاص اہمیت حاصل تھی، جس کے سبب واقعے کے بعد سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ ہوٹل کے بعض حصے شدید متاثر ہوئے اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
طالبان کے ترجمان عبدالمتین قانی نے ایک خبر رساں ادارے کو بتایا کہ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی موجود ہے، تاہم حتمی تفصیلات بعد میں فراہم کی جائیں گی۔
تاحال کسی گروہ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، لیکن شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس حملے میں اسلامک اسٹیٹ کے مقامی دھڑے کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
اس دھماکے کی ویڈیوز اور تصاویر بین الاقوامی میڈیا پر سامنے آنے کے بعد عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کابل میں بار بار ہونے والے ایسے واقعات نے ایک بار پھر امن و امان کی صورتحال پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔



