بیرسٹر اسدالدین او یسی کی آسام کے چیف منسٹر کے خلاف پولیس کمشنر حیدرآباد سے شکایت، مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ

نئی دہلی: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور رکن پارلیمنٹ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے آسام کے چیف منسٹر ہیمنتا بسوا سرما کے خلاف حیدرآباد کے کمشنر پولیس کو تحریری شکایت درج کروائی ہے۔ اویسی نے الزام لگایا کہ چیف منسٹر آسام مسلسل مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات دے رہے ہیں جس سے مذہبی جذبات مجروح ہو رہے ہیں اور فرقہ وارانہ نفرت کو فروغ مل رہا ہے۔
اویسی نے اپنی شکایت میں کہا کہ ہیمنتا بسوا سرما سوشل میڈیا، عوامی تقاریر اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے مسلم برادری کے خلاف قابل اعتراض بیانات دیتے آئے ہیں، جو قومی یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہیں۔
انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلہ شاہین عبداللہ بنام یونین آف انڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر کے معاملات میں پولیس کو شکایت کے بغیر بھی از خود کارروائی کرنی چاہیے۔
شکایت میں مزید بتایا گیا کہ 7 فروری 2026 کو بی جے پی آسام کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی تھی، جس میں ہیمنتا بسوا سرما کو آتشیں اسلحہ کے ساتھ دکھایا گیا۔ اویسی کے مطابق ویڈیو میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے جیسی منظرکشی کی گئی، جسے مذہبی منافرت اور اشتعال انگیزی قرار دیا گیا ہے۔
اویسی نے مطالبہ کیا کہ ان حقائق کی بنیاد پر ہیمنتا بسوا سرما کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے اور مقدمہ درج کیا جائے۔



