بی سی تحفظات کے خلاف عرضی دینے والے مادھو ریڈی کو بی آر ایس ٹکٹ، تشویشناک: کے کویتا
حیدرآباد: صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے الزام عائد کیا ہے کہ بی سی تحفظات (42 فیصد ریزرویشن) کے خلاف عدالت میں عرضی داخل کرنے والے بی مادھو ریڈی کو بی آر ایس کی جانب سے میونسپل انتخابات میں ٹکٹ دیا جانا انتہائی تشویشناک اور قابل اعتراض ہے۔

کویتا نے کہا کہ تعلیم، روزگار اور سیاست میں پسماندہ طبقات کو 42 فیصد ریزرویشن دلانے کیلئے تلنگانہ جاگروتی سمیت مختلف تنظیموں نے طویل جدوجہد کی، جس کے بعد بل سامنے آیا، تاہم مادھو ریڈی اور ایک دیگر شخص نے اس کے خلاف عدالت میں عرضی داخل کی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ بی آر ایس نے ایسے شخص کو ٹکٹ کیوں دیا جو بی سی ریزرویشن کے خلاف کھڑا رہا۔ کویتا نے کہا کہ مادھو ریڈی ہریش راؤ کے قریبی سمجھے جاتے ہیں اور یہ عرضی ہریش راؤ کے شخصی وکیل کے ذریعے داخل کروائی گئی تھی۔ ان کے مطابق ٹکٹ کی فراہمی سے یہ تاثر مضبوط ہو گیا ہے کہ اس معاملے کے پیچھے پارٹی کی حمایت موجود ہے۔
کویتا نے الزام لگایا کہ تلنگانہ میں پسماندہ طبقات کی آبادی 56 فیصد کے قریب ہے اور بی آر ایس نے ایسے شخص کو ٹکٹ دے کر خود کو بی سی مخالف ثابت کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس نے ماضی میں بی سی مسائل پر کبھی سنجیدگی نہیں دکھائی اور صرف رسمی اجلاس منعقد کیے گئے۔
کانگریس پر بھی تنقید
کویتا نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس سے منتخب ایم ایل اے گاندھی کو کانگریس نے نظام آباد میونسپل انتخابات کا انچارج مقرر کیا، جبکہ وہ بی آر ایس کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے۔ اسی طرح دیگر بی آر ایس ایم ایل ایز کو بھی میونسپل انتخابات کیلئے انچارج بنائے جانے کو انہوں نے عوامی فیصلے کی توہین قرار دیا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر راہل گاندھی آئین پر یقین رکھتے ہیں تو گاندھی کو انچارج کے عہدے سے ہٹایا جائے اور اسپیکر کو چاہئے کہ وہ نااہلی کی کارروائی کریں۔
جہدکاروں کیلئے آتما گورو سبھا کا اعلان
کویتا نے کہا کہ جہدکاروں کو اراضی فراہم نہ کیے جانے پر 12 فروری کو کریم نگر کے آر ٹی سی کلیان منڈپم میں تلنگانہ جہدکاروں کی آتما گورو سبھا منعقد کی جائے گی۔ انہوں نے جہدکاروں، شہداء کے اہلِ خانہ اور عوام سے شرکت کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ بی آر ایس نے جہدکاروں کو مایوس کیا، اسی لیے عوام نے کانگریس کو موقع دیا، لیکن کانگریس بھی وعدوں پر عمل نہیں کر رہی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس نے بی سی طبقات کیلئے سالانہ 20 ہزار کروڑ روپے بجٹ کا وعدہ کیا تھا مگر بجٹ میں مطلوبہ رقم مختص نہیں کی گئی۔
بی آر ایس، کانگریس اور بی جے پی پر تبصرہ
کویتا نے کہا کہ بی آر ایس اور کانگریس نے عوام کو مایوس کیا ہے، جبکہ بی جے پی پر بات کرنا ہی فضول ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ جاگروتی عوامی بھلائی کے مقصد سے ’شیر‘ کے نشان پر مقابلہ کر رہی ہے اور انہوں نے آزاد امیدواروں کی حمایت کی اپیل بھی کی۔
فون ٹیپنگ کیس پر بیان
فون ٹیپنگ کیس کے حوالے سے کویتا نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چھوٹی مچھلی کو پکڑ کر بڑی مچھلیوں کو چھوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کیس کو طول دینے کے بجائے جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔
(وقارِ ہند نیوز ڈیسک)



