میڈیکل کالج کی بندش پر جشن عمر عبداللہ کا سخت اور جذباتی ردِعمل
جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی منظوری منسوخ ہونے پر سنگھرش سمیتی کی جانب سے جشن منانے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں لوگ میڈیکل کالج قائم کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، مگر یہاں تعلیم کے دروازے بند کرنے پر خوشی منائی جا رہی ہے۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب داخلہ فہرست میں پچاس نشستوں میں سے بیالیس مسلمان اور سات ہندو طلبہ کے منتخب ہونے کی اطلاع سامنے آئی۔ بعض تنظیموں نے مذہبی بنیادوں پر اعتراض اٹھایا، جس کے بعد نیشنل میڈیکل کمیشن نے کم از کم معیارات کی عدم تکمیل کا حوالہ دیتے ہوئے کالج کی منظوری واپس لے لی۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ مذہب کے نام پر بچوں کے مستقبل سے کھیلنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت متاثرہ طلبہ کو ان کے قریب سرکاری میڈیکل کالجوں میں منتقل کرنے کے انتظامات کرے گی اور اس سلسلے میں وزیرِ صحت سے بات ہو چکی ہے۔
ادھر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے بھی اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قابلیت کو نظر انداز کر کے مذہبی بنیادوں پر فیصلے کرنا معاشرے کو تقسیم کرتا ہے۔ پارٹی کے رہنما نے اسے اقلیتوں کے خلاف منفی پیغام قرار دیا۔
دوسری جانب، سنگھرش سمیتی نے فیصلے کو اپنی کامیابی قرار دیتے ہوئے جشن منایا، جس پر سیاسی حلقوں میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ کئی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ تعلیم، انصاف اور سماجی ہم آہنگی کے لیے ایک کڑا امتحان ہے۔



