بین الاقوامیعرب دنیا

چین کا امریکی قرض کم، سونے میں سرمایہ کاری بڑھا دی

چین نے امریکہ کے قرض میں اپنی سرمایہ کاری کو سترہ برس کی کم ترین سطح تک کم کر دیا ہے، جبکہ اپنے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو بتدریج سونے اور دیگر متبادل اثاثوں کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نومبر میں چین کے پاس موجود امریکی خزانے کے بانڈز کی مالیت کم ہو کر چھ سو بیاسی اعشاریہ چھ ارب ڈالر رہ گئی، جو اکتوبر میں اس سے زیادہ تھی۔ یہ سطح دو ہزار آٹھ کے بعد سب سے کم سمجھی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان کشیدہ تعلقات اور عالمی مالی غیر یقینی صورتحال کے پس منظر میں کیا گیا ہے۔ چین کے پاس دنیا کے سب سے بڑے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر موجود ہیں، جن کی مجموعی مالیت کھربوں میں بتائی جاتی ہے۔ ایسے میں چین اپنی سرمایہ کاری کو زیادہ محفوظ اور متوازن بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسی دوران، دیگر ممالک نے امریکی قرض میں اضافہ کیا ہے۔ جاپان اور برطانیہ نے اپنے ذخائر بڑھا کر عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی مالی حکمتِ عملی میں مختلف ممالک کے رجحانات مختلف ہو رہے ہیں۔

چینی ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ امریکی قرض میں کمی دراصل سرمایہ کاری میں تنوع کی پالیسی کا حصہ ہے، تاکہ بیرونی خطرات سے بہتر طور پر نمٹا جا سکے۔ چین نے خاص طور پر سونے کے ذخائر میں مسلسل اضافہ کیا ہے، جو عالمی مالی اتار چڑھاؤ کے دوران ایک مضبوط سہارا سمجھا جاتا ہے۔

مرکزی بینک کے مطابق دسمبر کے اختتام تک چین کے سونے کے ذخائر میں مزید اضافہ ہوا، اور یہ عمل مسلسل کئی ماہ سے جاری ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقبل میں بھی چین سونے کو اپنی مالی حکمتِ عملی کا اہم ستون بنائے رکھے گا، تاکہ قومی معیشت کو زیادہ استحکام حاصل ہو سکے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button