علاقائی خبریںقومی

لال قلعہ دھماکہ کیس میں اہم پیش رفت، چار ملزمان 10 روزہ عدت میں بھیج دیے گئے

دہلی لال قلعہ دھماکہ کیس میں نیا موڑ سامنے آیا ہے، جہاں مرکزی ملزمان ڈاکٹر مزمل شکیل گنائی، ڈاکٹر عدیل احمد راٹھَر، ڈاکٹر شاہین سعيد اور مفتو ارفان احمد وگے کو پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے مزید 10 روزہ عدالتی ریمانڈ میں بھیج دیا ہے۔ چاروں ملزمان کی ابتدائی حراست کی مدت ختم ہونے پر انہیں عدالت میں پیش کیا گیا۔

اس واقعے میں 15 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔ دھماکہ نومبر 10 کو لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب ایک سست رفتار کار میں ہوا جس سے قریبی گاڑیاں بھی متاثر ہوئیں اور علاقے میں بڑا نقصان ہوا۔

اب تک سات افراد کو ایک ایسے وائٹ کالر دہشت گرد نیٹ ورک سے گرفتار کیا جاچکا ہے جو براہِ راست اس دھماکے سے جڑا ہوا ہے۔ این آئی اے کے مطابق تفتیشی ٹیم ملک بھر میں سرچ آپریشن کر رہی ہے تاکہ مزید سہولت کاروں تک پہنچا جاسکے۔

دہلی پولیس نے اس کیس میں دو مزید خفیہ ٹھکانے بھی تلاش کر لیے ہیں جنہیں مبینہ طور پر ڈاکٹر مزمل گنائی نے جعلی بہانے سے کرائے پر لیا تھا۔ ان میں کھوری جمالپور گاؤں اور ایک چھوٹا کمرہ شامل ہے جو ایک کاشتکار کی زمین پر تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ گنائی نے مکان مالک کو فروٹ کا کاروبار شروع کرنے کا بہانہ دیا تھا۔

مکان کے مالک جماع خان کے مطابق یہ کرایہ کا گھر تین کمروں، ہال اور کچن پر مشتمل تھا اور گنائی اپریل سے جولائی تک وہاں رہا۔
حال ہی میں این آئی اے ٹیم اسے دوبارہ گاؤں لے گئی اور مکان مالک سے گھنٹوں پوچھ گچھ کی۔

تحقیقات کے مطابق دھماکہ فریدآباد میں پکڑے گئے ایک دہشت گرد نیٹ ورک سے منسلک تھا اور ادارے اس پورے گروہ کو بے نقاب کرنے میں مصروف ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button