بین الاقوامیعرب دنیا

وہائٹ ہاؤس فائرنگ ایف بی آئی کا ممکنہ دہشت گردی کا شبہ

وہائٹ ہاؤس کے قریب پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے نے پورے ملک میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جس پر ایف بی آئی نے اسے ممکنہ بین الاقوامی دہشت گردی کا واقعہ قرار دیتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیق شروع کر دی ہے۔ اس فائرنگ میں دو نیشنل گارڈ اہلکار شدید زخمی ہوئے، جبکہ علاقہ کئی گھنٹوں تک بند رہا۔

ایف بی آئی ڈائریکٹر نے بتایا کہ ملزم کا پس منظر افغانستان سے جڑا ہوا ہے اور اس کی سرگرمیوں، روابط اور ماضی کے ساتھیوں کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے۔ فائرنگ کا واقعہ ۲۶ نومبر کو ہوا جس کے باعث وہائٹ ہاؤس سمیت متعدد سرکاری عمارتیں لاک ڈاؤن کر دی گئیں۔

اہلکاروں سارہ بیکسٹرم اور اینڈریو وولف پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ معمول کی گشت پر تھے۔ پولیس کے مطابق حملہ آور نے اچانک سامنے آ کر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ جائے وقوعہ پر موجود ایک اور گارڈ نے جوابی فائرنگ کر کے حملہ آور کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔

ملزم کی شناخت رحمان اللہ لکھان وال کے نام سے ہوئی جو ۲۰۲۱ میں ایک خصوصی سرکاری پروگرام کے تحت امریکا آیا تھا۔ حکام اس کے تمام دستاویزات اور پس منظر کی تصدیق کر رہے ہیں۔

امریکی اٹارنی جنرل نے واضح کیا ہے کہ ملزم پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے جائیں گے۔ وہائٹ ہاؤس نے بھی واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ حکام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

سابق صدر نے اپنے بیان میں اسے “قوم پر حملہ” قرار دیتے ہوئے افغان مہاجرین کی دوبارہ جانچ کا مطالبہ کیا۔ واقعے کے بعد دارالحکومت میں اضافی نیشنل گارڈ تعینات کر دیے گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button